About this post
This post is rgarding summary of New education policy of india 2020 in Ur du language.About the gist of 64 pages given only in 7 pages.
نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020ء (تفہیم و تجزیہ)
نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 ء کے پیچھے محرکات:
سال 2014 کے الیکشن میں مرکز میں بی جے پی اکثریتی پارٹی بن کر ابھری۔ بی جے پی کے 2014 ء کے منشور میں تعلیمی پالیسی کو بدلنا ایک اہم موضوع تھا۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد منشور میں مذکور دوسرے امور کے ساتھ ساتھ تعلیمی پالیسی کے کی تبدیلی کی طرف بھی کام شروع ہوا۔جنوری 2015ء میں مجلس عاملہ کے سابق سیکریٹری T.S.R SUBRAMANIANکی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر جون 2017 میں نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا جو تقریبا 484 صفحات پر مشتمل تھا۔ 2019 میں نئی تعلیمی پالیسی تیار کرنے کے لئے ایک پینل تشکیل دیا گیا جس کی قیادت ISRO کے سابق چیف کرشنا سوامی کستوری رنگن کو سونپی گئی۔ حکومت نے مسودے پر عوام اور مختلف اداروں سے رائے طلب کی۔ اس پر تقریبا دو لاکھ مشورے موصول ہوئے۔ آخر 30 جولائی 2020 کو کیبنیٹ نے نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دی۔ MHRD نے اس پالیسی کو انگریزی اور ہندی میں شائع کیا۔ ایک اورمحرکہ یہ ہے کہ 1986 قومی تعلیمی پالیسی جس کی 1992 میں تجدید ہوئی اس کے بعد کافی عرصہ گزر چکا تھا، اس دور میں تعلیم کے میدان میں تجدید اشد ضروری محسوس کی جارہی تھی۔
قومی تعلیمی پالیسی پر اجمالی نظر:
ابتدا میں تعارف دیا گیا ہے۔ بھارت نے عالمی تعلیمی ترقی کے ایجنڈے کو قبول کیا جوسال 2015 تک پورا کرنا تھا۔ جس کے تحت تعلیم میں مساوی معیاری تعلیم اور تاحیات سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کا مقصد طے کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کو سابقہ پالیسی کی توسیع کہا گیا ہے۔ آگے اس پالیسی کے رہنما اصول واضح کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد پالیسی کا ہدف بیان کیا گیا جس کے مطابق بھارت کو مساوی اور مضبوط عالمی سماج میں تبدیل کرنا ہے۔ اسی طرح سب کے لئے معیاری تعلیم مہیا کرکے بھارت کو مساوی اور مضبوط عالمی سماج میں تبدیل کرنا ہے اور عالمی طور پر بھارت کو علمی بڑی طاقت بنانا ہے۔
تعلیمی پالیسی چار زمرے میں منقسم ہے۔ زمرہ اول اسکولی تعلیم سے متعلق ہے۔ ہر زمرے میں مختلف موضوعات کو نمبر وار بیان کیا گیا ہے۔ ہر موضوع کے تحت مختلف ذیلی نمبر دیے گئے۔جیسے زمرہ او ل موضوع نمبر 2 اس کے تحت 2.1, 2.2, 2.3 اس طرح موضوع کے متعلق سفارشات اور ہدایات کا اندراج ہیں۔
زمرہ اول میں 8-1 کل 8 موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔پالیسی کی اہم تبدیلی اسکولی تعلیم کے پیٹرن کو بدلنا ہے۔ 2+10کے درجاتی پیٹرن کو4+3+3+5 میں تبدیل کیا گیا۔ جس میں ابتدائی پانچ سالوں میں پری پرائمری کے تین سال اور اوّل و دوم درجے شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں سوم تا پنجم جماعتیں شامل کی گئی ہیں۔ تیسرے مرحلے میں ششم، ہفتم، ہشتم درجے شامل ہیں۔ آخری چار سالہ مرحلے میں نہم تا بارہویں جماعتیں شامل کی گئی ہیں۔
اس زمرہ میں اچھے اسکول کی خوبیاں اور جماعت سوم تک تمام طلبہ کو خواندگی اور بنیادی حساب کی صلاحیت پیدا کرنے کی بات کی گئی ہے۔آنگن واڑی میں مڈ ڈے میل دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آنگن واڑی استاد کی تقرری، اہلیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ضائگی کو روکنے کی تدابیر بیان کی گئی ہیں۔ مڈ ڈے میل کے ساتھ ساتھ اسکول میں ناشتہ دینے کی سفارش کی گئی۔ اس طرح تعلیم فن مربوط، کھیل مربوط ہو۔ انفرااسٹرکچر بہتر کرنے کی ہدایات کی گئی۔مہاجر طلبہ کے لئے الگ سے متبادل تعلیمی ادارے قائم کرنے کی بات 3.2 میں کہی گئی ہے۔ 4.11 میں پنجم تک مادری زبان میں تعلیم دینے اور اس کے بعد ترجیحا مادری زبان کو اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ مادری زبان اسی طرح دستور کے شیڈول 8 میں مذکور 22 زبانیں جس میں اردو بھی شامل ہے، کی ترقی کیلئے اساتذہ کی تقرری اور مختلف سرگرمیوں کو انجام دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ 4.13 میں کہا گیا ہے کہ ہر ریاست میں سہ لسانی فارمولا نافذ ہو اس کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ سہ لسانی فارمولے میں کم از کم دو زبان بھارتی ہونی چاہیے۔مگر اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ کسی کو کسی زبان کے سیکھنے کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا۔کوئی زبان کسی ریاست پرجبرا نافذ نہیں کی جائے گی۔ سہ لسانی فارمولے کے نفاذ میں دستور کی ترجیحات صوبوں اور مرکز کی توقعات کو مدنظر رکھنے کی ہداہات کی گئی ہے۔ ششم جماعت سے طالب علم سہ لسانی فارمولے میں تبدیلی کر سکتا ہے۔4.15 میں ہندوستانی زبانوں کی خصوصیات بتائی گئی ہیں کہ ان زبانوں میں موسیقی اور فلم لکھی جاتی ہیں جن کی بدولت بھارت کا نام عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔(اردو کے لیے خوش آئندہ بات ہے کہ اردو فلموں کی زبان ہے مگر پالیسی میں یہاں کسی زبان کا نام مذکور نہیں) 4.17 میں سنسکرت زبان کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ اور تمام سطح کی تعلیم میں اس مضمون کے انتخاب کی ترغیب دی گئی۔ ساتھ ہی تامل،ملایالم،اڑیہ زبانوں کے انتخاب کی بھی ترغیب ہیں۔
نصاب مشق پر مبنی بنانے کی سفارش کی گئی۔ موضوع 6 میں پیشہ ورانہ تعلیم پر سفارشات کی گئی ہیں۔ششم تا ہشتم کے طلبہ کو مقامی ماہرین کے ذریعے مختلف ہنر سکھانے کی سفارشات کی گئی ہیں۔ اس ضمن میں طلبہ کا اسکول میں دس دن کا internship رکھ کر ان دنوں بنا دفتر کے طلبہ کو اسکول آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نیز اسی طرح کی انٹرنشپ تعطیلات میں کروانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ 4.33 میں طلبہ کے دفتر کے وزن کو کم کرنے کے لئے کہا گیا ہے. اس ضمن میں NCERT نصاب کا خاکہ تیار کرے گی۔4.40 میں سوم،پنجم،ہشتم میں امتحانات منعقد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ بورڈ کے امتحانات دسویں اور بارھویں میں جاری رہیں گے۔ آگے 4.40 میں ہر اسکول کو اسمارٹ کلاس روم کے بنانے کو کہا گیا ہے،جو اشارہ کرتا ہے کہ یہ پالیسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے.
5.4 میں T.E.T کو پرائیویٹ اساتذہ کے لئے بھی لازمی کرنے کی دی گئی ہے۔ ایک خوش آئندہ بات یہ ہے کہ 5.12 میں سفارش کی گئی ہے کہ اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے دور رکھا جائے. 5.15 میں اساتذہ کو مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے لئے آن لائن پلیٹ فارم کی سفارش کی گئی ہے، جس میں کم سے کم ہرٹیچر کے لیے 50 گھنٹے تربیت حاصل کرنے کا ہدف ہوگا۔
پوری پالیسی میں صرف 6.2.4 میں ایک ہی مرتبہ اقلیتوں کی بات کہی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اعلی تعلیم میں اقلیتوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔ اس بات کو کہا گیا ہے کہ یہ پالیسی اقلیتوں کی تعلیم کو فروغ دے گی۔
6.2.5 میں CWSN طلبہ کے بارے میں سفارشات ہیں۔6.20 میں اسکولی ثقافت کے فروغ کی بات کہی گئی جن میں مختلف اقدار کی شمولیت ہیں۔ 7.5 میں ایک معلمی اسکول کی تعداد بھارت میں 108017 بتائی گئی ہے اس مسئلہ پر بحث کی گئی۔ کم طلبہ کے اسکول بڑی اسکول میں الحاق کرنے کی بات کہی گئی مگر اس میں توازن اور انصاف سے کام لینے کی سفارش کی گئی اور کہا گیا کہ کوئی طالب علم تعلیم سے محروم نہ ہونے پائے اس کا لحاظ ضروری ہے۔ 7.7 میں اسکول کلسٹر کی بات کی گئی جس میں چند اسکول مل کر تعلیمی وسائل کا باہم لین دین کریں گے۔ 7.10 میں جوڑ اسکول کی بات کہی گئی اس میں ایک پبلک اسکول اور ایک پرائیویٹ اسکول کی جوڑی بنانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ دونوں اسکول ایک دوسرے کی ترقی میں معاون بنے۔
زمرہ دوم اعلی تعلیم کے بارے میں ہے جس میں 18-9 کل 11 موضوعات ہیں۔ 9.4 میں مقامی زبان میں کالج کی تعداد بڑھانے کی سفارش کی گئی۔ 10.3 میں خودمختار ڈگری فراہم کرنے والے کالج کے قیام کی سفارش کی گئی ہے. 10.8 میں اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے کو% 24 سے بڑھا کر% 50 فیصد تک لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 10.10 میں کہا گیا ہے کہ اعلی تعلیمی اداروں میں طلباء کو فاصلاتی تعلیم کے انتخاب کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس طرح کالج اور یونیورسٹی سے آن لائن کورسز بھی چلائے جائیں۔11.8 میں طلباء کو پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے آشنا کروانے کے لیے انٹرنشپ متعلقہ مقامی اداروں اور افراد کے ذریعہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے. یہ سبھی اعلی تعلیمی اداروں کے لیے ہوگا نہ کہ صرف پیشہ ورانہ کالج کے لیے۔ 11.10 میں ڈگری اورماسٹر ڈگری کی معیاد کو بتایا گیا جس میں کچھ خاص تبدیلی نہیں۔ نیز M.PHIL کی ڈگری بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 12.4 میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے طلبہ کے لیے کیریئر کونسلنگ کروائیں اس ضمن میں ہدایات دی گئی ہیں۔ 12.8 میں اعلی تعلیمی اداروں کو ایک آفس غیر ملکی طلبہ کی سہولت کے لئے شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔12.10 میں اسکالر شپ کے بارے میں ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت میں مختلف معیار پر اسکالرشپ دی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ میرٹ کی بنیاد پر بھی اسکالرشپ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے لیے اسکالرشپ پورٹل کی ذمہ داریاں بتائی گئی ہے۔
موضوع 15 میں اساتذہ کی تعلیم پر سفارشات ہیں۔15.2 میں کہا گیا ہے کہ جے۔ایس ورما کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں دس ہزار سے زیادہ تعلیمی ادارے اساتذہ کو صرف ڈگری بیچنے کا کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ کی تعلیم کے ضمن میں مختلف سفارشات اور ہدایات دی گئی ہیں۔
موضوع 16 میں پیشہ ورانہ تعلیم کا ذکر ہے۔ 16.1 میں کہا گیا کہ بھارت میں صرف% 5 فیصد طلبہ پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ امریکہ میں یہ تناسب %12فیصد جرمنی میں % 52 فیصد جرمنی میں % 75 فیصد اور ساؤتھ کوریا میں سب سے زیادہ 96 فیصد ہے۔ 16.5 میں سال 2025 تک اسکولی سطح سے اعلی تعلیم تک پچاس فیصد طلبہ کو پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ کرنے کی ہدایت اور سفارش کی گئی ہے۔
موضوع 17 میں ریسرچ کی بابت سفارشات مندرج ہیں۔ 17.3 میں کہا گیا ہے کہ بھارت صرف جی ڈی پی کا 0.69 فی صد ریسرچ پر خرچ کرتا ہے۔ جبکہ اسرائیل میں اس کا تناسب 4.3 ہے. اس ضمن میں NRF نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کے قیام کی سفارش کی گئی.
موضوع 18 میں اعلی تعلیمی اداروں کے نگران کار انتظامیہ کی بابت کہا گیا۔ 18.3 میں NHERC نیشنل ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری کونسل کے قیام کی سفارش کی گئی اور اس کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی۔ 18.12 میں اعلی تعلیم کے معاشیانے COMMERCIALISATION پر روک لگانے کے بابت بحث کی گئی ہے۔
موضوع 19 میں اعلی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی بابت بحث و سفارشات مندرج ہیں۔ 19.2 ہر اعلی تعلیمی ادارے کو BOARD OF GOVERNENCE بنانے کی ہدایت دی گئی۔اس میں اس کے کوائف اور رہنما اصول بتائے گئے۔
زمرہ سوم'' دیگر قابل توجہ اہم خطے'' کے عنوان سے ہے۔ جس میں 24-20 کل 5 موضوعات شامل ہیں۔موضوع 20 میں پیشہ ورانہ تعلیم, 20.3 میں زرعی تعلیم, 20.4 میں قانونی تعلیم,20.5 میں طبی تعلیم 20.6 میں تکنیکی تعلیم کے متعلق بحث واہم سفارشات ہیں۔ موضوع 21 میں تفصیلا تعلیم ِبالغان کی بابت سفارشات درج ہیں۔ اس کے لیے NCERT کی ذمہ داریاں بتائی گئی۔تا حیات تعلیم اور تعلیم بالغان کے لئے رہنما خد و خال کا ذکر کیا گیا۔
موضوع 22 میں بھارتی زبانوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے.اس میں کتابیں، رسالے، اخبارات، ترجمے کورسیز، میڈیم وغیرہ جیسے اقدامات مذکور ہیں۔ 22.4 میں ترجمہ کے ادارے قائم کرکے مقامی زبانوں میں غیر ملکی زبانوں کے ترجمے کرنے کی سفارشات مندرج ہیں۔
موضوع 23 میں تعلیمی ٹیکنالوجی کے استعمال کی بابت ہدایات دی گئی۔DIKSHA/SWAYAM جیسے پلیٹ فارم کا ذکر کیا گیا۔ ہر سطح پر ٹیکنالوجی کے استعمال کی ترغیب دی گئی۔ موضوع 24 میں آن لائن تعلیم کے بارے میں ہدایات مندرج ہیں۔ اس ضمن میں 7 اقدامات پالیسی نے تجویز کیے جن میں اساتذہ کی تربیت،VIRTUAL LAB وغیرہ شامل ہیں۔
زمرہ 4'' پالیسی کو وقوع میں لائیں '' کے عنوان سے ہے۔ یہ زمرہ 27-25 تین موضوعات پر مشتمل ہے۔ موضوع 25 میں CABE کے اہم رول کوواضح کیا گیا۔ موضوع 26 میں سب کے لئے کفایتی معیاری تعلیم فراہم کرنے کی بات کہی گئی۔ اس میں جی ڈی پی کا% 6 فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کی سفارش کی گئی۔
آخری موضوع27 میں اس پالیسی پر عمل آوری کے متعلق ہدایات ہیں. پالیسی پر عمل آوری کے لیے MHRD,CABEریاستی حکومت، ریاستی وزرائے تعلیم، ریاستی محکمہ جات تعلیم اسکولی اور اعلی تولیمی اداروں کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
قومی تعلیمی پالیسی کے اہم نمایاں اور قابل قدر سفارشات:
پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم کا ذکر ہے۔ نیز مقامی زبانوں کے فروغ کی بابت سفارشات ہیں۔ مڈ ڈے میل کے ساتھ طلباء کو ناشتہ دینا قابل قدر ہے۔ آنگن واڑی میں مڈ ڈے میل مہیا کروانا اچھا قدم ہے۔ اسکول سے زیادہ فاصلے پر جو لڑکیاں رہتی ہیں انہیں سائیکل فراہم کرنے کی سفارش قابل قدر ہے۔ اساتذہ کی تنخواہ بڑھانے اور اساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں سے دور رکھنے کی ہدایت بھی نہایت اہم ہے۔ اسکول کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے اسی طرح ہر اسکول میں ہر طالب علم کے پاس ٹیبلٹ کی رسائی ہونے کی سفارش بھی نہایت اہم ہے۔ طالب علم-ٹیچر شرح 30-1 رکھی گئی ہےSOCIAL ECONOMICAL DISADVANTAGED GROUPکی ترقی کے لیے بار بار سفارشات قابل قدر ہے۔ کالج میں داخلے کے پروسیس کو آسان بنانے کو کہا گیا ہے۔ حکومت سے تعلیم پر% 6 فیصد خرچ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مختلف نئے ادارے باڈیز کو قائم کرنا جو مستقبل میں مختلف ترقی کے اقدامات کو عملی جامہ پہنائے گی۔ غیرملکی یونیورسٹیاں ملک میں اپنے کیمپس اسی طرح ملکی یونیورسٹی غیر ممالک میں اپنی شاخیں قائم کرسکتی ہیں۔ یونیورسٹی اور کالج کی فیس اب طے شدہ ہو گی۔ مڈل اسکول میں طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم،کمپیوٹر کوڈنگ بھی سکھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی پر تنقید:
بہت ساروں نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا استقبال کیا ہے۔ IIT کانپور کے ڈائریکٹر ABHAY KANANDIKAN نے پالیسی کا استقبال کیا JNU کے چانسلر M.JAGDISH KUMAR اسی طرح جامعہ ملیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے بھی اس پالیسی کا استقبال کیا۔ وہیں پر بعض نے تنقید بھی کی ہے۔کانگریسی لیڈڑ ششی تھورات نے پالیسی سے ناراضی ظاہر کی۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سیتا رام یچوری نے کہا کہ اعلی تعلیم یافتہ افراد نے جو مشورے دیے تھے ان کے مشوروں کو پالیسی بناتے وقت نہیں لیا گیا۔ اسی طرح ان کی پارٹی کی انتظامیہ کمیٹی نے پالیسی میں بیان پیشہ واریت پر انگلی اٹھائی۔ JNUSU کے کم کم رائے نے کہا کہ دستور میں بیان کیے گئے بنیادی حقوق کا اس پالیسی میں ذکر نہیں۔ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ پالیسی کو پارلیمنٹ میں تبصرہ کیے بغیر منظوری دے دی گئی۔ JNUSU کے آشش گھوش نے پالیسی میں بیان پیشہ ورانہ تعلیم انٹرنشپ کو ایک طرح کی بچہ مزدوری قرار دیا۔
پالیسی پر خدشات اور ان کا ازالہ:
1)کیا سنسکرت زبان ہر ایک کیلئے لازمی ہوگی؟
وضاحت: پالیسی میں جگہ جگہ سنسکرت زبان کو سہ لسانی فارمولے میں انتخاب کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔مگر کہیں پر سنسکرت زبان کو لازمی پرار نہیں دیا گیا۔4.13 میں کہا گیا ہے کہ کسی زبان کو کسی فرد یا ریاست پر جبرا تھوپا نہیں جائے گا۔
2) اردو زبان کا کہیں ذکر نہیں تو کیا اردو کو فروغ نہیں ملے گا؟
یہ سچ ہے کہ اردو زبان کا براہ راست کوئی ذکر نہیں مگر پالیسی میں بنگالی اور مراٹھی زبان کا بھی تو ذکر نہیں کیا گیا۔ پالیسی میں مقامی زبان اور مادری زبان کے فروغ کی بات کہی گئی اس طرح دستور کے شیڈول8 میں درج 22 زبانوں کے فروغ کی ترغیب بھی دی گئی ہے جس میں اردو زبان بھی شامل ہے۔اس لیے سمجھ میں آتا ہے کہ اردو زبان کو مٹانے کا منشا پالیسی کا ہرگز نہیں ہے۔ اسکول کی زبان کے انتخاب کے سلسلے میں سہ لسانی فارمولہ بتایا گیا ہے۔سہ لسانی فارمولے میں ایک اردو, دوسری مراٹھی زبان اسی طرح تیسری انگریزی شامل ہوسکتی ہے، کیونکہ لسانی فارمولے میں کم سے کم دو زبانیں بھارتی ہوں کہا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے علاوہ دیگر علاقے کے مسلمان مراٹھی کے بجائے ہندی یا دوسری ریاستی مقامی زبان کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
3) تامل ناڈو میں مخالفت کی گئی کیونکہ وہاں کے عوام کو ایسا لگ رہا ہے کہ ہندی ان کے لیے لازمی قرار دی جائے گی جو وہاں کی عوام کو منظور نہیں۔
وضاحت: کسی زبان کو لازمی قرار نہیں دیا گیا بلکہ تامل زبان کے فروغ کی بات کہی گئی ہے۔ اورسہ لسانی فارمولے میں لچک رکھی گئی ہے۔
4)اسکالر شپ میرٹ کی بنیاد پر دینے کی سفارش کی گئی تو کیا پچھڑی ذاتوں کے لیے ریزر ویشن ختم؟
وضاحت: پالیسی میں ریزرویشن ختم کرنے کی بات نہیں کی گئی ہے۔ اسکالر شپ دینے کا ایک معیار پچھڑی ہوئی ذات ہے اس کے علاوہ میرٹ کی بنیاد پر اسکالرشپ دینے کی سفارش کی گئی۔
5)اقلیتوں کے بارے میں زیادہ کچھ ذکر نہیں۔
وضاحت: یہ صحیح ہے کہ اقلیتوں کا ذکر صرف ایک جگہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اعلی تعلیم میں اقلیتوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔ لہذا یہ پالیسی نمائندگی کو بڑھانے کے لیے ہے۔ مگراقلیتوں کو ریزرویشن دینے کی سفارش کا کہیں ذکر نہیں شاید اس لیے یہ پالیسی کے اختیارات میں نہیں یا پھر پالیسی پر حکومت اور بیوروکریسی کا اثر ہے۔ SEDG کی ترقی کا بار بار ذکر ہے جس میں مسلم افراد کی تعداد آسکتی ہے۔ اس کے تحت اقلیتوں کی ترقی ہو سکتی ہے مگر یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔
خلاصہء کلام: خلاصہ یہ ہے کہ پالیسی میں مقامی زبانوں کے فروغ کے بارے میں بار بار ہدایت کی گئی ہے اسی طرح SEDG کی ترقی کی ہر مرحلے میں سفارشات مندرج ہیں۔ پالیسی نے تعلیم سے متعلق ہر فرد ہر ادارے کو اس کی ذمہ داریوں سے روشناس کرایا ہے۔اب اس پر عمل واری کس طرح اور کس کامیابی کے ساتھ کی جاتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
Good job....keep it up.
ReplyDeletePost a Comment
Post your comments here..